نئی دہلی، 30؍جون(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا )اطلاعات کے حق قانون(آر ٹی آئی)قانون کے تحت دائر کی جانے والی درخواستوں میں کمی لانے کے لیے مرکزی حکومت کے تمام محکموں سے کہا گیا ہے کہ وہ ایسی اطلاعات خود ہی عام کردیں جنہیں حاصل کرنے کے لیے شہری اکثر عرضیاں دائر کرتے ہیں۔محکموں سے اطلاعات اور سہولیات مرکز(آئی ایف سی)قائم کرنے کے لیے بھی کہا گیا ہے تاکہ شہریوں کو پرنٹ شدہ مواد فراہم کرکے بتایا جائے کہ آر ٹی آئی کے تحت کس قسم کی اطلاعات سب سے زیادہ طلب کی جاتی ہیں۔تازہ ہدایت حکومت کی جانب سے قائم کی گئی ایک کمیٹی کی سفارشات پر مبنی ہے۔اس کمیٹی سے کہا گیا تھا کہ وہ مرکزی حکومت کے محکموں کی طرف سے حکومت سے متعلق اطلاعات خودہی جاری کرنے کے امکانات پر غور کرے۔پرسنل اور ٹریننگ محکمہ(ڈی او پی ٹی)نے تمام عوامی اتھارٹی سے ایسی کمیٹیاں قائم کرنے کو کہا ہے جس میں آر ٹی آئی درخواستوں سے وابستہ معاملات پر کام کرنے والے تجربہ کار افسران کو شامل کیا جائے۔یہ کمیٹیاں ایسی اطلاعات کے زمروں کی شناخت کرنے کا کام کریں گی۔سبھی وزارتوں کو بھیجی گئی ہدایت میں ڈی او پی ٹی نے کہاکہ ایسی اطلاعات یقینی طور پر عوامی کی جانی چاہیے تاکہ اس کو زیادہ سے زیادہ صارفین کے لیے دوستانہ بنایا جا سکے اور باقاعدہ وقفے پر اس کا جائزہ لیا جانا چاہیے۔ڈی او پی ٹی نے کہا ہے کہ شفافیت آڈٹ کرنے کا کام ہر وزارت یا محکمہ اور ریاستوں نیز مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے تحت آنے والے متعلقہ تربیتی اداروں کو دیا جا سکتا ہے۔